سولہویں صدی میں جب یورپ نے صنعتی ترقی شروع کی تو وہاں کے حالات ذرائع پیدوار اور طریقاہائے پیداوار یکسر تبدیل ہو گئے ۔ یہ صنعتی تبدیلی اتنے بڑے پیمانے پر ہوئی کہ وہاں کی روایتی صنعت یکدم ہی ختم ہو گئی اور اس کی جگہ بڑے بڑے کارخانوں نے لے لی ۔ پہلے جہاں ایک صنعت سے ہزاروں لوگ جڑے ہوئے تھے وہاں اب ہزاروں کی جگہ سیکڑوں نے لے لی بڑی بڑی مشینیں انسانی کام کرنے لگیں مگر اتنے بڑے پیمانے پر تبدیلی کے باوجود اس صنعت کو یورپ میں مکمل طور پر پھلنے پھولنے میں دو صدیاں لگ گئیں ۔ اٹھارہویں صدی کے وسط میں یہ صنعتیں ہندوسان میں قدم رکھ چکیں تھیں مگر ہندوستان کی وسعت کی وجہ سے یہ جدید مشینی صنعتیں روایتی صنعتوں پر کچھ زیادہ اثر انداز نہ ہو سکیں۔ ان صنعتوں نے بڑے شہروں کو تو اپنی لپیٹ میں لیا مگر دو ردراز کے علاقے ان کی پہنچ سے دور رہے یوں مقامی صنعتیں ،ان کے روایتی طریقے اور ان کی طلب و رسد برقرار رہی۔ سڑکوں کے جال بچھنے کے باوجود بیسویں صدی کے آخر تک یہ صنعتیں کسی نہ کسی طرح اپنے وجود کو برقرار رکھے رہیں اور ان صنعتوں سے جڑے لوگوں کا ذریعہ روزگار رہیں۔

ہمالہ کے وسیع دامن میں صدیوں سے ریاست جموں کشمیر اپنی خوبصورتی اور دلکشی کی وجہ سے نابغہ روزگار ہے۔ یہ ریاست صدیوں تک بیرونی حملہ آوروں کے لیے دلکشی کا باعث رہی اور مختلف ادوار میں یہاں بیرونی حملہ آور داخل ہونے کی کوشش کرتے رہے مگر انہیں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا مغلوں نے بالآخر اس کو تسخیر کیا اور بعد کے ادوار میں افغان اور سکھ اس ریاست پر حکمران رہے۔ وسعت ہندوستان کی وجہ سے انگریزوں نے جب پنجاب پر قبضہ کر لیا تو انہوں نے ریاست جموں کشمیر کو ایک اضافی حصہ سمجھتے ہوئے اس میں زیادہ دلچسپی نہیں لی اور اسے گلاب سنگھ کے حوالے کر دیا۔ گلاب سنگھ ریاست جموں کشمیر کا اندرونی طور پر خود مختار حکمران بن گیا اور یہ سلسلہ اس کے مزید تین نسلوں تک چلتا رہا۔ یہی وجہ تھی کہ ہندوستان میں سب سے اوپر ہمالہ کے دامن میں پھیلا یہ خطہ انگریزوں کی خرد برد سے محفوظ رہا اور اس کی روایتی صنعت برقرار رہی ۔ پہناوے اور دیگر ساز و سامان یہاں بذریعہ تجارت آنے لگا افسوس کہ مقامی حکمرانوں نے بھی صنعتی ترقی میں کوئی خاص دلچسپی نہیں لی۔ تقسیم کے بعد بعض مخصوص حالات کی وجہ سے ریاست جموں کشمیر بھی دو حصوں میں منقسم ہو گئی اور ایک حصہ آزاد جموں کشمیر کہلانے لگا۔ ضلع نیلم اسی آزاد جموں کشمیر کے مظفرآباد ڈویژن کا حصہ ہے۔ سیز فائر لائن سے جڑے ہونے کی وجہ سے یہ علاقہ ایک پٹی یا وادی کی شکل اختیار کر گیا ہے جس کا واحد راستہ بذریعہ مظفرآباد ہے جو آزاد کشمیر کے دیگر اضلاع اور پاکستان سے ملاتا ہے۔ اس کی واحد سڑک آزاد جموں کشمیر کے سابق صدر (مرحوم) خورشید حسن خورشید کی مرہون منت ہے۔

ضلع نیلم میں یوں تو بہت ساری صنعتیں ماضی میں اس علاقے کی بود وباش اور ہزاروں لوگوں کے لیے ذریعہ روزگار رہی ہیں مگر دو ایسی اہم صنعتیں اس علاقے کی پہچان بنی ہیں جنہوں نے اس علاقے کو خطے کے دیگر علاقوں سے انفرادیت بخشی ہے ان دو صنعتوں میں اولاََ بھیڑ کی اون سے بنی ہوئی مختلف پہناوے ہیں جنہیں مقامی زبان میں ’’پٹُو‘‘ کہا جاتا ہے جبکہ دوم مٹی سے بنائے جانے والے دیدہ زیب و دلکش ضروف ہیں جنہیں ماضی میں ایک بڑی صنعت کی حیثیت حاصل رہی ہے۔

اون سے بننے والے کپڑوں کی صنعت

بیسویں صدی کی آخری دہائی تک نیلم ویلی پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دور دراز علاقوں میں شمار ہوتا تھا یہاں کی مقامی صنعتیں کافی بہتر حالت میں تھیں اور ان کی اہمیت بھی اظہر من الشمس تھی مگر اکیسویں صدی کی آمد اور پہلے عشرے میں ہی اس صنعت کو زوال آ گیا ۔ یہ اون کی صنعت تھی جس سے لباس کے ساتھ ساتھ اوڑھنے کے لیے بھی کپڑے تیار کیے جاتے تھے ۔ اس کو مقامی زبان میں پٹو کہتے ہیں جس سے پہننے کے لیے موٹے اور کھردرے کپڑے، اوڑھنے کے لیے چادر جتنی ساخت کی ’’پٹوڑی‘‘ جو بالکل چادر سے مشابہہ تھی جبکہ رات میں اوڑ کر سونے کے لیے ’’لوئی ‘‘ جو کہ کمبل یا رضائی کا نعم البدل تھی تیار کی جاتی تھی۔پٹو سے کوٹ، دستانے، ٹوپیاں اور جرابیں بھی تیار کی جاتی تھیں جن کا استعمال عام تھا۔

معاشی لحاظ سے یہ صنعت تقریبا ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی تھی، اون سے بنے ہوئے کپڑوں کے لیے لوگ بھیڑیں پالتے تھے جن سے اون کے علاوہ دودھ ، گوشت اور کھال بھی حاصل ہوتی تھی ۔ تقریباََ ہر گھر میں بھیڑیں پالنے کا رواج عام تھا جس سے اس صنعت کے لیے خام مال ملتا تھا۔ اون کے لیے بھیڑیں پالنے کے ساتھ ساتھ ہر گھر میں اس کے لئے الگ سے جگہ بنائی جاتی تھی جہاں پر اون سے بننے والی اشیاء تیار کی جاتی تھی۔ لکڑی کے دو بڑے ٹکڑوں کے ساتھ ایک لمبا سا کیل ٹھوکا جاتا تھا جو کہ لکڑی ہی کا ہوتا تھا جبکہ دوسری طرف لکڑی ہی کا استعمال کیا جاتا تھا۔ اسے مقامی زبان میں ’’کھڈی‘‘ بولتے تھے۔
سب سے پہلے اون کو’’کاتا ‘‘جاتا تھا جس کے لیے ایک ’’چرخہ‘‘ استعمال کیا جاتا تھا۔ کاتنے کے بعد اون دھاگے کے مانند ہو جاتی تھی ۔’’چرخہ‘‘لکڑی سے بنی ہوئی ایک مشین کو کہا جاتا تھا جس کی ایک طرف لکڑی کے تختوں سے گول پر بنائے جاتے تھے جس کے ساتھ چھوٹی سی ’’ہتھی‘‘ لگائی جاتی تھی ۔ جبکہ تقریبا چھ سے آٹھ انچ کے فاصلے پر لوہے یا لکڑی کا ایک بڑا سا ’’سوا‘ ‘‘لگایا جاتا تھا جس پر اون سے بنا دھاگا چڑھتا تھا ۔ اون کے اس دھاگے کو لکڑی پر تانا جاتا تھا جس سے پہننے، اوڑھنے اور بچھونے کی مختلف اشیاء تیار کیا جاتی تھی۔مقامی سطح پر ان اشیاء کی طلب کے علاوہ بھی ان کو بین الضلاع اور دور دراز علاقہ جات میں بھی بھیجا جاتا تھا۔ اس صنعت سے ہزاروں افراد کا روزگار وابستہ تھا۔

ہر گھر میں بھیڑیں پالنے کے رواج کے ساتھ ساتھ تقریبا ہر خاندان میں انفرادی اور اجتماعی طور پر ’’کھڈی‘‘ لگانے کا رواج عام تھا۔ خاندان میں کوئی نہ کوئی ہمہ وقت رسیاں تانے رکھتا تھا جس پر اون سے بنا لباس تیار کیا جاتا تھا۔ ہر گھر میں تقریبا تمام افراد ہنر مند ہوتے تھے ۔ اس سے مقامی طور پر لوگ ایک دوسرے پر انحصار نہیں کرتے تھے۔

غلام جیلانی ان چند افراد میں سے ایک ہیں جو ابھی تک خود کو اس صنعت سے جوڑے ہوئے ہیں اور کسی نہ کسی طرح اس کو زندہ رکھے ہوئے ہیں ۔ ان کی عمر تقریبا پینسٹھ برس کے لگ بھگ ہے وہ کہتے ہیں کہ جس زمانے میں انہوں نے یہ کام سیکھا تقریبا معاشرے میں ہر گھر میں لوگ اون سے بنی تمام مصنوعات گھر میں تیار کرتے تھے اس لیے مقامی لوگوں کا ایک دوسرے پر انحصار بہت کم تھا ۔ انہوں نے یہ فن اپنے والد سے سیکھا ان ہی کی طرح ان کے دیگر بھائی بھی یہ کام کرتے تھے اور انہوں نے بھی اپنے والد سے ہی سیکھا تھا مگر رفتہ رفتہ دوسرے تمام افراد دیگر مختلف پیشوں سے جڑ گئے اور تعلیم عام ہونے کی وجہ سے انہوں نے اس پیشہ کو ترک کر دیا اور سرکاری نوکریاں کرنے لگے ۔ دوسرا بازار میں منفرد قسم کی بہتر اور سستی مصنوعات تک عام لوگوں کی رسائی کی وجہ سے لوگوں نے اس صنعت کی طرف توجہ دینا کم کر دی۔

ان کا کہنا ہے کہ آج سے چالیس سال قبل تک ہر گھر میں پہننے، اوڑھنے اور بچھونے کے لیے اون سے بنی مصنوعات ہی استعمال کی جاتی تھیں۔ اس زمانے میں یہاں برف بھی خوب پڑتی تھی اور مقامی لوگ غربت کی وجہ سے شہر سے گر م کوٹیاں اور جرسیاں لانے سے قاصر تھے یہی وجہ تھی کہ لوگ اون سے بنی ہوئی شال کا استعمال بہت زیادہ کرتے تھے۔
وہ آج بھی اس صنعت سے منسلک ہیں مگر یہ صنعت انہیں روزگار فراہم کرنے میں ناکام ہے یہی وجہ ہے کہ وہ کبھی کبھی کسی کے کہنے پر تیار کرتے ہیں۔ اب لوگوں نے بھیڑیں پالنا بھی ترک کر دیا ہے اس لیے جو شخص بھی اون سے بنی مصنوعات تیار کروانا چاہتا ہے اسے خود اون کا بندوبست کرنا پڑتا ہے ۔ اب لوگوں نے ’’چرخے‘‘ پر کام کرنا بھی تقریبا ختم کر دیا ہے جس کی وجہ سے اون کو کات کر دھاگہ تیار کرنے میں بھی بڑی دشواری ہوتی ہے۔

خام مال کی عدم دستیابی کی وجہ سے اب صرف لوگ ’’پٹوڑی‘‘ کی مانگ کرتے ہیں وہ بھی کبھی کبھار،ایک پٹوڑی (شال)کی تیاری میں چھ سے آٹھ دن لگ جاتے ہیں جبکہ اس میں اون کے علاوہ مختلف رنگوں کا دھاگہ بھی استعمال کیا جاتا ہے جس سے اس کی دلکشی بڑھ جاتی ہے لیکن پختگی اور پائیداری میں فرق آ جاتا ہے۔

وہ سال میں چھ سے آٹھ شالیں بنا لیتے ہیں جس سے انہیں تقریبا پچاس ہزار روپے تک مل جاتے ہیں مگر اب لوگ اون سے بنی شالیں اوڑھنے کے بجائے اسے تحفے میں دینے یا تعیشات میں استعمال کرتے ہیں کیونکہ بازار میں اس سے سستی اور بہتر قسم کی شالیں دستیاب ہیں۔ دوسرا اس صنعت کے زوال میں مقامی لوگ خود بھی قصور وار ہیں ایک تو لوگوں نے بھیڑیں پالنا ترک کر دیا جس سے صنعت کو ملنے والے خام مال میں کمی آ گئی چنانچہ خام مال میں کمی کی وجہ سے اون کی قیمت بڑھ گئی یوں ان شالوں کی قیمت بھی آسمان کو چھونے لگی یوں چند سال قبل جو شال ایک ہزار سے پندرہ سو روپے میں مل جاتی تھی اب وہی شال چھ ہزار سے دس ہزار تک کی مختلف قیمتوں میں مل سکتی ہے اور اس پر بھی کاریگر کی بچت بہت کم ہے۔ شال سازی کے طریقوں میں بھی کسی قسم کی جدت نہیں لائی گئی ، شاید مشینوں کا استعمال کیا جاتا تو اس صنعت کو زوال نہ آتا ہے۔ ہاتھوں سے گرچہ بہترین شالیں بنتی ہیں جن کی کوالٹی بہت بہتر ہو تی ہے لیکن اس میں بہت زیادہ محنت اور وقت صرف ہو جاتا ہے جس سے اس کی قیمت بہت بڑھ جاتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کی اولاد یا نوجوان نسل میں سے کوئی بھی اس صنعت میں دلچسپی نہیں لے رہا ہے اور نہ ہی اس فن کو سیکھنے کے لیے تیار ہے۔

اون سے تیار ہونے والی اشیاء اور لباس کی یہ صنعت تقریبا دم توڑ چکی ہے اور آنے والے دس سے پندرہ سالوں میں اس کا وجود تقریبا ختم ہو جائے گا جس کے بعد ’’پٹوڑی‘‘’’لوئی‘‘ اور دیگر اشیاء عجائبات میں شمار ہوں گی مگر حکومتی سطح پر اور عوامی حلقوں کی دلچسپی اس کے بچاؤ میں کردار ادا کر سکتی ہے ، تیاری کے طریقوں میں جدت اور مارکیٹ تک اس کی رسائی سے اس صنعت کو بحال کیا جا سکتا ہے جبکہ مقامی سطح پرایسے اداروں کا قیام بھی عمل میں لانا ضروری ہے جہاں اس دم توڑتی صنعت کے فن کی تعلیم دی جا سکے۔

Advertisements